(۱۴۷۷۲) حدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا ہُرَیْرَۃ إِذَا اسْتَلَمُوا الرُّکْنَ، یَعْنِی الْحَجَرَ ، قَبَّلُوا أَیْدِیَہُمْ ۔ قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : وَابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : وَابْنُ عَبَّاسٍ ، حَسِبْتَ کَثِیرًا ، قَالَ : وَقَالَ عَطَائٌ : لَمْ أَمْسَحِ الرُّکْنَ إِنْ لَمْ أُقَبِّلْ یَدِی ۔ قَالَ : وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ : یَجْفَی مَنْ مَسَحَ الرُّکْنَ، وَلَمْ یُقَبِّلْ یَدَہُ۔
(١٤٧٧٢) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر، حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ کو دیکھا وہ جب حجر اسود کا استلام کرتے تو اپنے ہاتھوں کو چومتے۔
راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اور حضرت ابن عباس بھی ؟ آپ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے ابن عباس بھی، حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ میں رکن کو ہاتھ نہ لگاتا اگر میں اپنے ہاتھوں کو بوسہ نہ دیتا اور حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں جس نے رکن کو چھوا اور اپنے ہاتھوں کو نہ چوما اس نے بےرخی برتی۔