(۱۴۸۰۶) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : وَدِدْتُ أَنِّی کُنْت اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْہُ سَوْدَۃُ ، أَنْ تَأْتِیَ مِنًی بِلَیْلٍ وَتَرْمِیَ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ النَّاسُ ، فَأَذِنَ لَہَا ، وَکَانَتِ امْرَأَۃً ثَبِطَۃً ثَقِیلَۃً۔ (بخاری ۱۶۸۰۔ مسلم ۲۹۵۔ احمد ۶/۹۸)
(١٤٨٠٦) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بھی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگ لوں جس طرح حضرت سودہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لی تھی کہ وہ رات کو منیٰ آجائیں اور لوگوں کی آمد سے قبل ہی رمی کرلیں اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اجازت مرحمت فرما دی تھی کیونکہ وہ بھاری جسم والی تھیں۔