(۱۴۸۴۷) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الْوَدَاعِ ، قَالَ : اسْتَسْقَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَلاَ نَسْقِیکَ مِنْ شَرَابٍ نَصْنَعُہُ ؟ فَأَتَاہُ بِإِنَائٍ فِیہِ نَبِیذُ زَبِیبٍ ، فَقَالَ : أَلاَ أَکْفَأْتَ عَلَیْہِ إنَائً ، أَوْ عَرَضْتَ عَلَیْہِ عُودًا ؟ ثُمَّ شَرِبَ مِنْہُ فَقَطَّبَ ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَصَبَّہُ فِیہِ فَشَرِبَ ؟ وَسَقَی أَصْحَابَہُ۔
(١٤٨٤٧) حضرت عکرمہ بن خالد آل وداع کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف کے دوران پانی طلب کیا، ایک شخص نے عرض کیا : کیا میں آپ کو اپنا بنایا ہوا مشروب نہ پلاؤں ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک برتن لایا گیا جس میں کشمش کا نبیذ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ کیا تو نے اس پر کوئی برتن الٹایا تھا یا اس پر کوئی لکڑی رکھی ہوئی تھی ؟ (یہ اس لیے کہا ہوگا کہ شاید اس برتن میں نشانات بنے ہوئے تھے جو بعد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ پر بھی ظاہر ہوئے پینے کے بعد) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے نوش فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماتھے پر شکن پڑگئے، پھر پانی منگوایا گیا اور وہ اس میں ڈالا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی نوش فرمایا اور اپنے صحابہ کو بھی پلایا۔