(۱۴۸۷۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْحَیِّ وَأَوْصَی أَنْ یُنْحَرَ عَنْہُ بَدَنَۃٌ ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْبَقَرَۃِ ؟ فَقَالَ : تُجْزِء ، قَالَ : قُلْتُ : مِنْ أَیٍّ قَوْمٍ أَنْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مِنْ بَنِی رَبَاحٍ ، قَالَ : وَأَنَّی لِبَنِی رَبَاحٍ الْبَقَرُ ؟ إِنَّمَا الْبَقَرُ لِلأَزْدِ ، وَعَبْدِ الْقَیسِ۔
(١٤٨٧٧) حضرت یعقوب سے مروی ہے کہ میرے محلہ کا ایک شخص فوت ہوا اور اس نے وصیت کی کہ اس کی طرف سے بدنہ کی قربانی کی جائے، میں نے حضرت ابن عباس سے دریافت کیا کہ گائے ذبح کی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کافی ہوجائے گی، آپ نے پوچھا کہ تو کون سی قوم میں سے ہے ؟ میں نے عرض کیا بنو رباح سے، آپ نے فرمایا بنو رباح کے پاس گائے کہاں سے آگئی ؟ گائے تو ازد اور قبیلہ عبد قیس کے پاس ہوتی ہیں۔