(۱۴۹۴۸) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ : یُوسُفُ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ ؛ قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ أَبِی مَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْہُ ؟ قَالَ : أَنْتَ أَکْبَرُ وَلَدِہ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَحُجَّ عَنِ أَبِیکَ ، أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ عَلَی أَبِیکَ دَیْنٌ قَضَیْتَہُ ؟
(نسائی ۳۶۲۴۔ احمد ۴/۳ )
(١٤٩٤٨) حضرت ابن زبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص خدمت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں انھوں نے حج نہیں کیا ہوا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کیا تو ان کا بڑا بیٹا ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ پھر تو اپنے والد کی طرف حج ادا کر، تیرا کیا خیال ہے اگر تیرے والد پر قرضہ ہوتا تو کیا تو وہ ادا نہ کرتا ؟۔