(۱۵۱۰۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَیْخًا یُحَدِّثُ أَبَا إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنِّی أُرِیدُ أَنْ أُجَدِّدَ فِی صُدُورِ الْمُؤْمِنِینَ ، أَیُّمَا صَبِیٍّ حَجَّ بِہِ أَہْلُہُ ، ثُمَّ مَاتَ أَجْزَأَ عَنْہُ ، وَإِنْ أَدْرَکَ فَعَلَیْہِ الْحَجُّ ، وَأَیُّمَا مَمْلُوکٍ حَجَّ بِہِ أَہْلُہُ ، ثُمَّ مَاتَ أَجْزَأَ عَنْہُ ، وَإِنْ أُعْتِقَ فَعَلَیْہِ الْحَجُّ۔ (ابوداؤد ۱۳۴)
(١٥١٠١) حضرت محمد بن کعب القرظی سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ مؤمنوں کے دلوں میں (اس حکم کو) تازہ اور از سرنو کروں : جس بچے کے اھل و عیال نے اس کے ساتھ حج کیا پھر وہ بچہ فوت ہوگیا تو وہ حج اس کے لیے کافی ہوجائے گا، اور اگر وہ (بڑا ہوجائے) پالے تو اس پر حج کرنا ہے، اور جس غلام نے حج کیا اھل کے ساتھ پھر وہ فوت ہوگیا تو اس کے لیے حج کافی ہوجائے گا اور اگر وہ آزاد کردیا جائے تو اس پر حج کرنا لازم ہے۔