(۱۵۱۶۵) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، وَسَلاَّمٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَن ، رَجُلٌ جَاہِلٌ بِالسُّنَّۃِ ، بَعِیدُ الشُّقَّۃِ ، قَلِیلُ ذَاتِ الْیَدِ ، قَضَیْتُ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا ، غَیْرَ أَنِّی لَمْ أَزُرِ الْبَیْتَ حَتَّی وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی ، فَقَالَ : بَدَنَۃٌ ، وَحَجٌّ مِنْ قَابِلٍ ، فَأَعَادَ عَلَیْہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، کُلُّ ذَلِکَ یَقُولُ : بَدَنَۃٌ ، وَحَجٌّ مِنْ قَابِلٍ۔
(١٥١٦٥) ایک شخص حضرت ابن عمر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے ابو عبد الرحمن ! آدمی جو کہ سنت سے ناواقف، گھر بار سے دور اور جو توشہ اس کے پاس ہے وہ بھی تھوڑا ہے، میں نے مناسک حج تمام ادا کرنے کے بعد طواف سے قبل اپنی بیوی سے صحبت کرلی ہے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ تجھ پر اونٹ لازم ہے اور آئندہ سال حج کی قضا، اس شخص نے تین بار اپنی بات کو دھرایا اور آپ نے تینوں بار یہی جواب دیا۔