(۱۵۱۸۰) حدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لابْنِ عَبَّاسٍ وَہُوَ فِی الْحَجِّ وَہُوَ مُحْرِمٌ : أَحُکُّ رَأْسِی وَأَنَا مُحْرِمٌ ؟ فَجَمَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَدَیْہِ جَمِیعًا ، فَحَکَّ بِہِمَا رَأْسَہُ ، وَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَقُولُ ہَکذَا ، فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : أَرَأَیْتَ إِنْ قَتَلْتُ قَمْلَۃً ؟ فَقَالَ : بَعُدْتَ ، وَمَا الْقَمْلَۃُ مَانِعَتِی مِنْ حَکِّ رَأْسِی ، وَمَا نُہِیتُمْ إِلاَّ عَنِ الصَّیْدِ۔
(١٥١٨٠) ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے عرض کیا اس حال میں کہ آپ حج کے احرام میں تھے کہ میں حالت احرام میں سر کو کھجلا سکتا ہوں ؟ حضرت ابن عباس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کیا اور ان کے ساتھ سر کو کھجلایا اور فرمایا کہ میں تو بہرحال یہی کہتا ہوں، اس شخص نے عرض کیا کہ اگر آپ کوئی جوں مار دیں ؟ آپ نے فرمایا تیرے لیے دوری ہے جوں تو میرے سر کے کھجلانے میں رکاوٹ نہیں ہے، اور بیشک تم لوگوں کو حج میں صرف شکار کرنے سے روکا گیا ہے۔