(۱۵۲۳۶) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَائَتِ امْرَأَۃٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا حَجَّۃٌ ، فَأَقْضِیہَا عَنْہَا ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ہَلْ کَانَ عَلَی أُمِّکَ دَیْنٌ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ : قَالَ : فَکَیْفَ صَنَعْتِ ؟ قَالَتْ : قَضَیْتُہُ عَنْہَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَاللَّہُ خَیْرُ غُرَمَائِکِ۔
(١٥٢٣٦) ایک خاتون حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کے ذمہ حج لازم تھا کیا میں ان کی طرف سے ادا کر دوں ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ کیا ان کے ذمہ کچھ قرضہ تھا ؟ اس خاتون نے عرض کیا کہ جی ہاں، آپ نے پوچھا کہ پھر تو نے اس کا کیا کیا ؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے وہ ادا کردیا ہے، حضرت ابن عباس نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہترین قرض خواہ ہے، (اس کا قرض بھی ادا کرو) ۔