(۱۵۲۴۱) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : قَدْ رُئِیَ الْہِلاَلُ ، فَأَہَلَّ مَکَانِہِ ہِلاَلُ ذِی الْحِجَّۃِ ، فَلَمَّا کَانَ فِی الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، قِیلَ لَہُ : قَدْ رُئِیَ الْہِلاَلُ ، وَہُوَ فِی الْبَیْتِ ، فَنَزَعَ ثَوْبًا کَانَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَہَلَّ ، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الثَّالِثُ ، قِیلَ لَہُ : قَدْ رُئِیَ الْہِلاَلُ ، فَقَالَ : مَا أَنَا إِلاَّ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِی ، أَصْنَعُ کَمَا یَصْنَعُونَ ، فَأَقَامَ حَلاَلاً حَتَّی کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ۔
(١٥٢٤١) حضرت عطائ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے عرض کیا کہ چاند نظر آگیا ہے، آپ نے اپنی جگہ سے احرام باندھ لیا، پھر جب آئندہ سال آیا تو میں نے عرض کیا کہ چاند نظر آگیا ہے، اس وقت آپ بیت اللہ میں تھے آپ نے اپنے کپڑے اتارے پھر احرام باندھ لیا، پھر جب تیسرا سال آیا تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ چاند دیکھ نظر آگیا ہے، آپ نے فرمایا : بیشک میں صحابہ میں سے ہوں، میں وہی کرتا ہوں جو وہ کرتے تھے، پھر آپ بغیر احرام کے ہی رہے یہاں تک کہ آٹھ ذی الحجہ ہوگئی۔