(۱۵۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : الْغَدِیرُ نَأْتِیہِ وَقَدْ وَلَغَ فِیہِ الْکِلاَبُ وَشَرِبَ مِنْہُ الْحِمَارُ ، نَشْرَبُ مِنْہُ ؟ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : أَوْ قُلْتُ : نَتَوَضَّأُ مِنْہُ ؟ فَنَظَرَ إلَیَّ فَقَالَ : إذَا أَتَی أَحَدُکُمُ الْغَدِیرَ یَنْتَظِرُ حَتَّی یَسْأَلَ : أَیُّ کَلْبٍ وَلَغَ فِیہِ أَوْ أَیُّ حِمَارٍ شَرِبَ مِنْ ہَذَا ؟۔
(١٥٢٧) حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم ایسے تالابوں پر جاتے ہیں جن میں کتے نے منہ مارا ہوتا ہے یا گدھے نے پانی پیا ہوتا ہے۔ کیا ہم اس میں سے پی سکتے ہیں یا اس میں سے وضو کرسکتے ہیں حضرت قاسم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ جب تم کسی حوض پر جاؤ تو انتظار کرو اور سوال کرو کہ کتے نے اس میں منہ مارا ہے یا کسی گدھے نے اس میں سے پانی پیا ہے ؟