(۱۵۵۵۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أن أُمِّ سَلَمَۃَ ابْنَۃِ الْمُخْتَارِ کَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ فَوَلَدَتْ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَتَخَلَّفَتْ مَعَہَا صَفِیَّۃُ ، فَلَمْ تَضَعْ لَیْلَتَہَا تِلْکَ وَمِنَ الْغَدِ ، ثُمَّ جَائَتَا مِنًی مِنَ اللَّیْلِ فَرَمَتَا الْجَمْرَۃَ فَلَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَیْہِمَا عَبْدُ اللہِ ، وَلَمْ یَأْمُرْہُمْ أَنْ تقضیا شَیْئًا۔
(١٥٥٥٣) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ بنت المختار حضرت عبداللہ بن عمر کے صاحبزادے کی اہلیہ تھیں، انھوں نے مزدلفہ میں بچہ جنا، حضرت صفیہ ان کے ساتھ وہ رات اور اگلے دن کی رات وہاں پیچھے ہی رکی رہیں، پھر وہ دونوں رات کو منیٰ آئیں اور رمی کی، حضرت عبداللہ بن عمر نے ان کے اس عمل پر کوئی نکیر نہ فرمائی اور نہ ہی ان کو کسی چیز کے قضا کرنے کا حکم فرمایا۔