(۱۵۸۵۹) حَدَّثَنَا سَلاَّمٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا حُجَّاجًا حَتَّی إذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ أَوْطَأَ رَجُلٌ مِنَّا ضَبًّا فَقَتَلَہُ وَہُوَ مُحْرِمٌ ، فَأَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لِیَحْکُمَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ : عُمَرُ : احْکُمْ مَعِی فَحَکَمَا فِیہِ جَدْیًا قَدْ جَمَعَ الْمَائَ وَالشَّجَرَ ، ثُمَّ قَالَ : عُمَرُ : یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ۔
(١٥٨٥٩) حضرت طارق فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حج کے لیے گئے، جب ہم راستے میں تھے تو ہم میں سے ایک شخص نے جو حالت احرام میں تھا گوہ کو پاؤں تلے کچل دیا، پھر حضرت عمر کے پاس آیا تاکہ آپ اس کے متعلق فیصلہ فرمائیں، حضرت عمر نے اس سے فرمایا میرے ساتھ ایک اور فیصل لے آؤ۔ پس دونوں نے ایسی بکری کا فیصلہ کیا جس نے پانی اور درخت کو جمع کیا ہو (یعنی چرتی ہو اور پانی پیتی ہو اتنی چھوٹی نہ ہو کہ صرف دودھ پر گزرا کرتی ہو) ۔ پھر حضرت عمر نے آیت مبارکہ تلاوت فرمائی کہ { یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ }، (تم میں سے دو عادل لوگ فیصلہ کریں) ۔