(۱۶۰۱۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ شُرَیْحٍ ، قَالَ : سَأَلَہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إنِّی أَصَبْتُ صَیْدًا وَأَنَا مُحْرِمٌ ، فَقَالَ لَہُ شُرَیْحٌ : ہَلْ کُنْت أَصَبْت قَبْلَہُ ؟ قَالَ : لاَ قَالَ : لَوْ کُنْت فَعَلْت وَکَّلْتُک إلَی اللہِ تَعَالَی حَتَّی یَنْتَقِمَ مِنْک {وَاللَّہُ عَزِیزٌ ذُو انْتِقَامٍ} قَالَ دَاوُد : فَذَکَرْت ذَلِکَ لِسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، فَقَالَ : أَفَیَخْلُعُ یَحْکُمُ عَلَیْہِ ؟۔
(١٦٠١٠) حضرت شریح سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ میں نے حالت احرام میں شکار کرلیا ہے ؟ حضرت شریح نے اس سے فرمایا کیا تو نے اس سے پہلے بھی شکار کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ نے فرمایا کہ اگر تو نے پہلے بھی ایسا کیا ہوتا تو میں تجھے اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے انتقام لیتا، ارشاد باری تعالیٰ ہے { وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ }، حضرت داؤد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ کیا اس کو چھوڑ دیں گے ! اس پر حکم لگایا جائے گا۔