(۱۶۰۲۷) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إنِّی لَوِ اسْتَقْبَلْت مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْت ، لَمْ أَسُقِ الْہَدْیَ وَجَعَلْتہَا عُمْرَۃً ، فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَیْسَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُحِلَّ ، وَلْیَجْعَلْہَا عُمْرَۃً فَقَامَ سُرَاقَۃُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ألِعَامِنَا ہَذَا ، أَوْ لأَبَدٍ ؟ فَشَبَّکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَہُ وَاحِدَۃً فِی الأُخْرَی ، وَقَالَ : دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ لاَ بَلْ لأَبَدٍ أَبَدٍ۔
(١٦٠٢٧) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب میں کسی کام کے لیے چلتا ہوں تو پھر اس سے منہ نہیں پھیرتا، میں نے ھدی کو نہیں ہانکا تھا میں نے اس کو عمرہ بنادیا ہے، پس تم میں سے جن کے پاس ھدی نہ ہو وہ حلال ہوجائیں اور اس کو عمرہ بنالیں، حضرت سراقہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک انگلیاں ایک دوسری میں داخل فرمائی اور فرمایا، عمرہ کو حج میں داخل کردیا گیا ہے۔ نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔