(۱۶۱۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ : کُنْتُ أَمْشِی مَعَ عَبْدِ اللہِ بِمِنًی ، فَلَقِیَہُ عُثْمَانُ فَقَامَ مَعَہُ یُحَدِّثُہُ ، فَقَالَ لہ عُثْمَانُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَلاَ أُزَوِّجُک جَارِیَۃً شَابَّۃً لَعَلَّہَا تُذَکِّرُک بَعْضَ مَا مَضَی مِنْ زَمَانِکَ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللہِ أَمَا لَئِنْ قُلْتُ ذَلِکَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ ، فَإِنَّہُ لَہُ وِجَائٌ۔ (بخاری ۵۰۶۵۔ مسلم ۱۰۱۸)
(١٦١٥٤) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں منیٰ میں حضرت عبداللہ (رض) کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس دوران امیر المؤمنین حضرت عثمان (رض) سے ان کی ملاقات ہوئی تو وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ حضرت عثمان (رض) نے ان سے کہا اے ابو عبد الرحمن ! میں ایک جوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کروادوں ؟ شاید وہ آپ کے ماضی کو تازہ کرسکے۔ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ آپ بھی یہ بات کی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اے نوجوانوں ! تم میں جو شادی اور اس کے متعلقات پر دسترس رکھتا ہو اسے چاہیے کہ شادی کرلے، کیونکہ شادی نگاہ کو جھکانے والی اور شرمگاہ کو پاکیزہ بنانے والی ہے۔ جو شخص شادی کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ مستقل روزہ رکھے کیونکہ یہ روزہ گناہوں کے مقابلے میں ڈھال بن جائے گا۔