(۱۶۱۸۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ جَارِیَۃٌ مِنْ أَہْلِ الأَرْضِ یَعْنِی لَیْسَ لَہَا مَوْلًی ، خَطَبَہَا رَجُلٌ، أَیُزَوِّجُہَا رَجُلٌ مِنْ جِیرَانِہَا ، قَالَ : تَأْتِی الأَمِیرَ قَالَ : فَإِنَّہَا أَضْعَفُ مِنْ ذَلِکَ ، قَالَ : فَتُکَلِّمُ رَجُلاً یُکَلِّمُ لَہَا الأَمِیرُ ، قَالَ : فَإِنَّہَا أَضْعَفُ مِنْ ذَلِکَ ؟ قَالَ : لاَ أَعْلَمُ إلاَّ ذَلِکَ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : فَالْقَاضِی ؟ قَالَ : فَالْقَاضِی إذًا، إلاَّ أَنَّہُ یَجْعَلُ الْقَاضِی رُخْصَۃً۔
(١٦١٨٤) حضرت معتمر کے والد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے سوال کیا کہ اگر کسی لڑکی کا کوئی ولی نہ ہو اور کوئی شخص اسے نکاح کا پیغام بھیجے تو کیا اس لڑکی ہمسایہ اس کا نکاح کرواسکتا ہے ؟ حضرت حسن نے فرمایا کہ وہ امیر وقت سے کہے گی۔ میں نے کہا کہ اگر وہ اس کی دسترس نہ رکھتی ہو تو ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ کسی آدمی کے ذمے لگائے کہ وہ امیر سے بات کرے۔ میں نے کہا کہ اگر وہ اس کی بھی دسترس نہ رکھتی ہو تو ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ نہیں جانتا۔ میں نے کہا کہ کیا قاضی اس کا نکاح کراسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں اس صورت میں قاضی کراسکتا ہے۔ البتہ حضرت حسن نے قاضی کے لیے رخصت رکھی۔