(۱۶۲۴۹) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ الْغِفَارِیِّ قَالَ : کَتَبْت إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی جَارِیَۃٍ مِنْ جُہَیْنَۃَ زَوَّجَہَا وَلِیُّہَا رَجُلاً مِنْ قَیْسٍ ، وَزَوَّجَہَا أخوہا رَجُلاً مِنْ جُہَیْنَۃَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدَ الْعَزِیزِ أَنْ أَدْخِلْ عَلَیْہَا شُہُودًا عُدُولاً ثم خَیِّرْہَا ، فَأَیَّہُمَا اخْتَارَتْ فَہُوَ زَوْجُہَا۔
(١٦٢٤٩) حضرت ثابت بن قیس غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے نام خط لکھا کہ جہینہ قبیلے کی ایک لڑکی کا نکاح اس کے ولی نے قبیلہ قیس کے ایک آدمی سے کرادیا، جبکہ اس کے بھائی نے اس کا نکاح جہینہ قبیلے کے ایک آدمی سے کرایا ہے، اب وہ کس کی بیوی ہوگی ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ اس کے سامنے عادل گواہ لاؤ پھر اسے اختیار دو ، وہ جس کو اختیار کرے وہی اس کا شوہر ہے۔