(۱۶۳۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بن سلیمان ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَمَّنْ حَدَّثَہُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی الْحَسَنِ مَوْلًی لِبَنِی نَوْفَلٍ قَالَ : کُنْتُ أَنَا وَامْرَأَتِی مَمْلُوکَیْنِ فَطَلَّقْتُہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ أُعْتِقْنَا بَعْدَ ذَلِکَ فَأَرَدْت مُرَاجَعَتَہَا فَسَأَلْت ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنْ رَاجَعْتہَا فَہِیَ عِنْدَکَ عَلَی وَاحِدَۃٍ وَمَضَتِ اثْنَتَانِ ، قَضَی بِذَلِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
(١٦٣٩٥) حضرت ابو الحسن (مولی بنی نوفل) فرماتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں مملوک تھے۔ میں نے اسے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر ہم دونوں آزاد ہوگئے۔ میں اس سے رجوع کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اس بارے میں حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اگر تم اس سے رجوع کرو تو ایک طلاق کا حق لے کر رجوع کرو گے۔ دو طلاقیں گذر گئیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یہی فیصلہ فرمایا تھا۔