(۱۶۴۱۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّ بُشَیْرَ بْنَ کَعْبٍ قَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ : {فَامْشُوا فِی مَنَاکِبِہَا} ، فَقَالَ لِجَارِیَتِہِ: إِنْ دَرَیْت مَا مَنَاکِبُہَا فَأَنْتِ حُرَّۃٌ لِوَجْہِ اللہِ، قَالَتْ: فَإِنَّ مَنَاکِبَہَا جِبَالُہَا ، فَکأَنَّمَا سُفِعَ وَجْہَہُ، وَرَغِبَ فِی جَارِیَتِہِ فَجَعَلَ یَسْأَلُ ، عَنْ ذَلِکَ فَمِنْہُمْ مَنْ یَأْمُرُہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْہَاہُ حَتَّی لَقِیَ أَبَا الدَّرْدَائِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : دَعْ مَا یَرِیبُک إلَی مَا لاَ یَرِیبُک فَإِنَّ الْخَیْرَ فِی طُمَأْنِینَۃٍ وَإِنَّ الشَّرَّ فِی رِیبَۃٍ ، فترَکَ ذَلِکَ۔
(١٦٤١٤) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بشیر بن کعب نے یہ آیت پڑھی { فَامْشُوا فِی مَنَاکِبِہَا } پھر اپنی باندی سے کہا کہ اگر تم ” مناکبھا “ کا معنی بتادو تو تم آزاد ہو۔ اس نے کہا کہ اس سے مراد ” پہاڑ “ ہیں۔ یہ سنتے ہی بشیر بن کعب کا رنگ بدل گیا ! وہ اپنی اس باندی سے محبت کرتے تھے۔ اب انھوں نے اس بارے میں لوگوں سے پوچھنا شروع کردیا کہ اسے آزاد کروں یا نہیں۔ بعض نے آزاد کرنے کو کہا اور بعض نے اس سے منع کیا۔ انھوں نے حضرت ابوا لدردائ (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے اختیار کرلو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔ خیر طمانیت کا نام ہے اور شک میں شر ہے۔ لہٰذا بشیر بن کعب نے اس باندی کو چھوڑ دیا۔