(۱۶۵۱۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ الْحَنَفِیَّۃِ ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَہُ أَمَتَانِ أختان أَیَطَؤُہُمَا ؟ فَقَالَ : أَحَلَّتْہُمَا آیَۃٌ وَحَرَّمَتْہُمَا آیَۃٌ ، ثُمَّ أَتَیْتُ ابْنَ الْمُسَیَّبِ ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ مُحَمَّدٍ ، ثُمَّ سَأَلْت ابْنَ مُنَبِّہٍ ، فَقَالَ : أَشْہَدُ أَنَّہُ فِیمَا أَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی مُوسَی أَنَّہُ مَلْعُونٌ مَنْ جَمَعَ بَیْنَ الأُخْتَیْنِ قَالَ : فَمَا فَصَّلَ لَنَا حُرَّتَیْنِ وَلاَ مَمْلُوکَتَیْنِ قَالَ : فَرَجَعْت إلَی ابْنِ الْمُسَیَّبِ فَأَخْبَرْتہ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ۔
(١٦٥١٤) حضرت عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن حنفیہ سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کرسکتا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے انھیں حلال اور دوسری نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر میں حضرت سعید بن مسیب کے پاس آیا تو انھوں نے بھی محمد بن حنفیہ والی بات کہی۔ پھر میں نے حضرت ابن منبہ سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کردہ شریعت کے مطابق دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے والا ملعون ہے۔ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ دونوں آزادہوں یاباندیاں۔ عبد العزیز کہتے ہیں کہ میں نے جاکر ابن منبہ کی بات سعید بن مسیب کو بتائی تو انھوں نے اللہ کی تکبیر بیان کی۔