(۱۶۵۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیع بن الجراح ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی فَرْوَۃَ ، عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ أَفْتَی فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَطَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، أَوْ مَاتَتْ عِنْدَہُ ، فَقَالَ : لاَ بَأْسَ أَنْ یَتَزَوَّجَ أُمَّہَا ثُمَّ أَتَی الْمَدِینَۃَ فَرَجَعَ فَأَتَاہُمْ فَنَہَاہُمْ وَقَدْ وَلَدَتْ أَوْلاَدًا۔
(١٦٥٢٥) حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فتویٰ دیا کہ اگر کسی آدمی نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی یامر گیا تو وہ اس عورت کی ماں سے شادی کرسکتا ہے۔ پھر جب وہ مدینہ آئے تو انھوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیا اور لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ حالانکہ عورتوں کی شادی کے بعد بچے بھی ہوچکے تھے۔