(۱۶۶۰۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی زَمْزَمَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَذَکَر لہ أَنَّہُ تَسَقَّط امْرَأَتَہُ فَزَعَمَتْ أَنَّہَا فَجَرَتْ ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَبِئْسَ مَا صَنَعْت إِنْ کُنْت فَعَلْت مِثْلَ الَّذِی أَقَرَّتْ بِہِ عَلَی نَفْسِہَا ، فَأَمْسِکَ علیک امْرَأَتَکَ، وَإِنْ کَانَتْ لَمْ تَفْعَلْ فَخَلِّ سَبِیلَہَا۔
(١٦٦٠٢) حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے ساتھ بئر زمزم کے پاس بیٹھا تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو بچہ ضائع کرنے پر مجبور کیا کیونکہ اس عورت کا کہنا تھا کہ اس نے بدکاری کی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس سے فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا۔ کیونکہ اگر تم نے بھی اس جیسا کام کیا ہے جس کا وہ اپنے لیے اقرار کررہی ہے تو اسے اپنی بیوی بنا کر رکھو اور اگر تم نے ایسا کام نہیں کیا تو اس کا راستہ چھوڑ دو ۔