(۱۶۶۰۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاء َ رَجُلٌ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إنَّ عِنْدِی امْرَأَۃً أَحَبُّ النَّاسِ إلَیَّ ، وَإِنَّہَا لاَ تَمْنَعُ یَدَ لاَمِسٍ ، قَالَ : طَلِّقْہَا قَالَ : لاَ أَصْبِرُ عَنْہَا ، قَالَ : فَاسْتَمْتِعْ بِہَا۔
(ابوداؤد ۲۰۴۲۔ بیہقی ۱۵۵)
(١٦٦٠٥) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میری ایک بیوی ہے جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے، وہ درست کردار کی حامل نہیں۔ اس کے بارے میں میرے لیے کیا حکم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کو طلاق دے دو ۔ اس نے کہا میں اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر اس سے فائدہ اٹھاتے رہو۔