(۱۶۶۲۸) حَدَّثَنَا حَفْص بن غیاث ، عَنْ أَشْعَثَ وَہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ السُّلَمِیِّ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : لاَ تُغَالُوا فِی مُہُورِ النِّسَائِ فَإِنَّہَا لَوْ کَانَتْ مَکْرُمَۃً فِی الدُّنْیَا ، أَوْ تَقْوَی عِنْدَ اللہِ لَکَانَ أَحَقَّکُمْ بِہَا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَوْلاَکُمْ ، مَا زَوَّجَ بِنْتًا مِنْ بَنَاتِہِ وَلاَ تَزَوَّجَ شَیْئًا مِنْ نِسَائِہِ إلاَّ عَلَی اثْنَتَی عَشْرَۃَ أُوقِیَّۃً۔ (ابوداؤد ۲۰۹۹۔ احمد ۱/۴۰)
(١٦٦٢٨) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ عورتوں کو بہت زیادہ مہر نہ دو ، کیونکہ اگر یہ دنیا میں کوئی عزت کی چیز ہوتی یا تقویٰ کا سبب ہوتی تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی اولاد اس کے زیادہ حقدار ہوتے۔ حالانکہ آپ نے اپنی تمام صاحبزادیوں کا نکاح اور اپنی تمام ازواج سے نکاح بارہ اوقیہ چاندی پر کیا ہے۔