(۱۶۶۵۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ امْرَأَۃً فَأَسَرَّ ذَلِکَ ، فَکَانَ یَخْتَلِفُ إلَیْہَا فِی مَنْزِلِہَا فَرَآہُ جَارٌ لَہَا یَدْخُلُ عَلَیْہَا فَقَذَفَہُ بِہَا فَخَاصَمَہُ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، ہَذَا کَانَ یَدْخُلُ عَلَی جَارِیَۃٍ وَلاَ أَعْلَمُہُ تَزَوَّجَہَا ، فَقَالَ لَہُ : مَا تَقُولُ ؟ فَقَالَ : تَزَوَّجْت امْرَأَۃً عَلَی شَیْئٍ دُونٍ فَأَخْفَیْتُ ذَلِکَ ، قَالَ : فَمَنْ شَہِدَکُمْ ؟ قَالَ : أَشْہَدْت بَعْضَ أَہْلِہَا ، قَالَ : فَدَرَأَ الْحَدَّ ، عَنْ قَاذِفِہِ وَقَالَ: أَعْلِنُوا ہَذَا النِّکَاحَ وَحَصِّنُوا ہَذِہِ الْفُرُوجَ۔
(١٦٦٥٤) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے کسی عورت سے خفیہ طور پر شادی کی، وہ اس کے گھرآیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ عورت کے ایک پڑوسی نے آدمی کو اس کے گھر آتے دیکھ لیا تو اس پر تہمت لگا دی۔ یہ جھگڑا لے کر وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تہمت لگانے والے پڑوسی نے کہا کہ اے امیر المؤمنین ! یہ شخص میری پڑوسن کے پاس آتا ہے اور مجھے ان کے نکاح کا کوئی علم نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس شخص کا بیان معلوم کیا تو اس نے کہا میں نے اس عورت سے خفیہ طور پر شادی کی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے گواہوں کی بابت سوال کیا تو اس نے کہا عورت کے کچھ رشتہ دار اس نکاح کے گواہ ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے تہمت لگانے والے پر حد تو جاری نہ کی البتہ ان سے فرمایا کہ نکاح کو اعلانیہ کیا کرو اور شرمگاہوں کو پاکدامن رکھو۔