(۱۶۷۱۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ امْرَأَۃً خَاصَمَتْ زَوْجَہَا إلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَدْ شَرَطَ لَہَا دَارَہَا حِینَ تَزَوَّجَہَا فَأَرَادَ أَنْ یُخْرِجَہَا مِنْہَا فَقَضَی عُمَرُ أَنَّ لَہَا دَارَہَا ، لاَ یُخْرِجُہَا مِنْہَا وَقَالَ : وَالَّذِی نَفْسُ عُمَرَ بِیَدِہِ لَوِ اسْتَحْلَلْت فَرْجَہَا بِزِنَۃِ أُحُدٍ ذَہَبًا لأَخَذَتُ مَا بِہِ لَہَا۔
(١٦٧١١) حضرت ابو زناد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس ایک مقدمہ لے کر آئی کہ اس کے خاوند نے نکاح کے وقت اس کو اسی کے گھر میں ٹھہرانے کی شرط لگائی تھی۔ اب وہ اس کو اس گھر سے نکالنا چاہتا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ عورت کا حق ہے کہ وہ اپنے گھر میں رہے خاوند اسے اس سے نکال نہیں سکتا۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ اگر تو نے احد پہاڑ کے برابر سونے کے عوض بھی عورت کی شرمگاہ کو حلال کیا ہوتا تو وہ بھی میں تجھ سے لے کر اسے دیتا۔