(۱۶۷۶۲) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَشْیَاخِہِمْ أَنَّ أَبَا حَلِیمَۃَ مُعَاذًا الْقَارِیَّ تَزَوَّجَ ابْنَۃَ حارثۃ بْنِ النُّعْمَانِ الأَنْصَارِیِّ فَلَمْ یَصِلْ إلَیْہَا فَأَجَّلَہُ عُمَرُ سَنَۃً ، قَالَ یَحْیَی : فَأَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیُّ أَنَّہُ حَیْثُ حَالَ عَلَیْہِ الْحَوْلُ فُرِّقَ بَیْنَہُمَا وَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَفَّ عَلَی حارثۃ ابْنَتِہِ۔
(١٦٧٦٢) حضرت یحییٰ بن سعید اپنے ایک شیخ سے نقل کرتے ہیں کہ ابو حلیمہ معاذ القاری نے حارثہ بن نعمان انصاری کی بیٹی سے شادی کی۔ لیکن وہ ان سے جماع کرنے پر قادر نہ ہوسکے۔ حضرت عمر (رض) نے انھیں ایک سال کی مہلت دی۔ حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ مجھے عبد الرحمن انصاری نے بتایا کہ جب ایک سال گزر گیا تو دونوں کے درمیان حضرت عمر (رض) نے جدائی کرادی اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے حارثہ کی بیٹی کا مسئلہ حل کرادیا۔