(۱۶۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ : أَمَا تَذْکُرُ یَوْمًا کُنَّا فِی کَذَا وَکَذَا فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَائَ فَتَمَعَّکْنَا فِی التُّرَابِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : إنَّمَا یَکْفِیک ہَذَا ، ثُمَّ ضَرَبَ الأَعْمَشُ بِیَدَیْہِ ضَرْبَۃً ، ثُمَّ نَفَخَہُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ۔
(١٦٩٠) حضرت ابن ابزی کے والد روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار نے حضرت عمر سے کہا کہ کیا آپ کو وہ دن یاد نہیں جب فلاں وقت میں ہم جنبی ہوگئے تھے اور ہمیں پانی نہ ملا تو ہم مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ جب ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات عرض کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ یہ کہہ کر راوی اعمش نے اپنے دونوں ہاتھ مٹی میں مارے پھر ان میں پھونک ماری پھر انھیں اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیا۔