(۱۶۹۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَسْلَمَ الْمُنْقِرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : بَاعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ جَارِیَۃً لَہُ کَانَ یَقَعُ عَلَیْہَا قَبْلَ أَنْ یَسْتَبْرِئَہَا فَظَہَرَ بِہَا حَمْلٌ عِنْدَ الَّذِی اشْتَرَاہَا فَخَاصَمَہُ إلَی عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ : کُنْت تَقَعُ عَلَیْہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَبِعْتہَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَبْرِئَہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا کُنْت لِذَلِکَ بِخَلِیقٍ ، فَدَعَا الْقَافَۃَ فَنَظَرُوا إلَیْہِ فَأَلْحَقُوہُ بِہِ۔
(١٦٩٢٢) حضرت عبید اللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف نے ایک ایسی باندی کو بیچا جس سے وہ جماع کیا کرتے تھے۔ اور اس کے رحم کے خالی ہونے کا یقین نہ کیا۔ جس شخص نے اسے خریدا اس کے پاس حمل ظاہر ہوگیا۔ تو وہ مقدمہ لے کر حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر نے حضرت عبد الرحمن سے پوچھا کہ کیا تم اس سے جماع کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے عرض کیا جی ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تم نے اس کے رحم کے خالی ہونے کا یقین کئے بغیر اسے بیچ دیا ؟ انھوں نے عرض کیا جی ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ایسا کرنا آپ کے شایانِ شان نہیں تھا۔ پھر انھوں نے قیافہ شناسوں کو بلایا اور انھوں نے بچے کو دیکھ کر بچہ ان کے حوالے کردیا۔