(۱۶۹۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ امْرَأَۃً ، فَقَالَ عِنْدَہَا فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إلَی زَیْدٍ ، فَقَالَ : لَہَا الصَّدَاقُ کَامِلاً ، فَقَالَ مَرْوَانُ : إنَّہُ مِمَّنْ لاَ یُتَّہَمُ ، فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ : لَوْ أَنَّہَا جَائَتْ بِحَمْلٍ ، أَوْ بِوَلَدٍ أَکُنْت تُقِیمُ عَلَیْہَا الْحَدَّ ؟۔
(١٦٩٥٨) حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے شادی کی اور اس کے ساتھ دوپہر کو کچھ وقت گزارا۔ مروان نے حضرت زید سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ایسی عورت کے لیے پورا مہر ہوگا۔ مروان نے کہا کہ وہ شخص ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں متہم کیا جائے۔ حضرت زید نے فرمایا کہ اگر وہ حاملہ ہوجائے یا بچے کو جنم دے تو کیا آپ اس پر حد قائم کریں گے ؟