(۱۶۹۸۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ یَحْیَی بْنِ جَعْدَۃَ أَنَّ رَجُلاً انتَسَفَتْہُ الْجِنُّ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ فَأَتَتِ امْرَأَتُہُ عُمَرَ فَأَمَرَہَا أَنْ تَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِینَ ثُمَّ أَمَرَ وَلِیَّہُ بَعْدَ أَرْبَعِ سِنِینَ أَنْ یُطَلِّقَہَا ثُمَّ أَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا تَزَوَّجَتْ فَإِنْ جَائَ زَوْجُہَا خُیِّرَ بَیْنَ امْرَأَتِہِ وَالصَّدَاقِ۔
(١٦٩٨٥) حضرت یحییٰ بن جعدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے زمانے میں ایک شخص کو جن اٹھا کرلے گئے۔ اس کی بیوی حضرت عمر (رض) کے پاس آئی اور ساری صورت حال بتائی تو حضرت عمر (رض) نے اسے حکم دیا کہ چار سال انتظار کرے۔ چار سال بعد خاوند کے ولی کو حکم دیا کہ وہ عورت کو طلاق دے دے۔ پھر عورت کو عدت گزارنے کا حکم دیا۔ جب عدت پوری ہوجائے تو وہ شادی کرسکتی ہے اور اگر اس کا خاوندواپس آجائے تو مرد کو بیوی اور مہر میں سے ایک چیز کا اختیار دیا جائے گا۔