(۱۶۹۸۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ سُئِلَ عُمَرُ ، عَنْ رَجُلٍ غَابَ ، عَنِ امْرَأَتِہِ فَبَلَغَہَا أَنَّہُ مَاتَ فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ جَائَ الزَّوْجُ الأَوَّلُ ، فَقَالَ عُمَرُ : یُخَیَّرُ الزَّوْجُ الأَوَّلُ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَامْرَأَتِہِ فَإِنَ اخْتَارَ الصَّدَاقَ تَرَکَہَا مَعَ الزَّوْجِ الآخَرِ ، وَإِنْ شَائَ اخْتَارَ امْرَأَتَہُ وَقَالَ عَلِیٌّ : لَہَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ الآخَرُ مِنْ فَرْجِہَا وَیُفَرَّقُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ثُمَّ تَعْتَدُّ ثَلاَثَ حِیَضٍ ثُمَّ تُرَدُّ عَلَی الأَوَّلِ۔
(١٦٩٨٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو غائب ہوگیا اور اس کی بیوی کو اس کے مرنے کی اطلاع ملی تو اس نے عدت گزار کر شادی کرلی۔ پھر پہلا خاوند آگیا تو کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ پہلے خاوند کو مہر اور عورت کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ اگر وہ مہر اختیار کرلے تو عورت دوسرے خاوند کے پاس رہے گی اور اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو اختیار کرلے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ عورت کو دوسرے خاوند کی طرف سے مہر ملے گا اور دونوں کے درمیان تفریق کرادی جائے گی، پھر وہ تین حیض عدت گزارے گی اور پہلے خاوند کو واپس کردی جائے گی۔