(۱۶۹۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ ، عَنْ سُہَیۃَ ابْنَۃِ عُمَیْرٍ الشَّیْبَانِیَّۃِ قَالَتْ : نُعِیَ إلَیَّ زَوْجِی مِنْ قَنْدَابِیلَ فَتَزَوَّجْت بَعْدَہُ الْعَبَّاسَ بْنَ طَرِیفٍ أَخَا بَنِی قَیْسٍ ، فَقَدِمَ زَوْجِی الأَوَّلُ فَانْطَلَقْنَا إلَی عُثْمَانَ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : کَیْفَ أَقْضِی بَیْنَکُمْ وأنا عَلَی حَالِی ہَذِہِ ؟ قُلْنَا : قَدْ رَضِینَا بِقَضَائِکَ فَخَیَّرَ الزَّوْجَ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ فَلَمَّا أُصِیبَ عُثْمَانُ انْطَلَقْنَا إلَی عَلِیٍّ وَقَصَصْنَا عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَخَیَّرَ الزَّوْجَ الأَوَّلَ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ فَأَخَذَ مِنِّی أَلْفَیْنِ وَمِنَ الآخَرِ أَلْفَیْنِ۔
(١٦٩٩١) حضرت سہیہ بنت عمیر شیبانیہ فرماتی ہیں کہ مجھے قندابیل میں اپنے خاوند کے انتقال کی خبر ملی۔ میں نے بعد میں عباس بن طریف جو بنو قیس کے بھائی تھے شادی کرلی۔ بعد میں میرے پہلے خاوند بھی واپس آگئے۔ ہم مسئلہ پوچھنے حضرت عثمان بن عفان کے پاس گئے، اس وقت وہ محصور تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ میں اس حال میں تمہارے درمیان فیصلہ کیسے کرسکتا ہوں ؟ ہم نے کہا کہ ہم آپ کے فیصلے پر راضی ہیں۔ انھوں نے خاوند کو مہر اور عورت میں سے ایک چیز کا اختیار دیا۔ جب حضرت عثمان کو شہید کردیا گیا تو ہم حضرت علی (رض) کے پاس گئے اور سارا واقعہ بیان کیا تو انھوں نے پہلے خاوند کو مہر اور عورت کے درمیان اختیار دیا۔ پس انھوں نے مہر کو اختیار کرتے ہوئے مجھ سے اور دوسرے خاوند سے دو دو ہزار لئے۔