(۱۷۱۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو الْبَجَلِیِّ قَالَ : خَرَجَ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَی عُمَرَ قَالَ لَہُمْ : مِمَّنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ : فَبِإِذْنٍ جِئْتُمْ ؟ قَالُوا ، نَعَمْ ، فَسَأَلُوہ عَمَّا یَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِہِ وَہِیَ حَائِضٌ ، فَقَالَ : سَأَلْتُمُونِی ، عَنْ خِصَالٍ مَا سَأَلَنِی عنہن أَحَدٌ بَعْدَ أَنْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَّا مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِہِ وَہِیَ حَائِضٌ فَلَہُ مَا فَوْقَ الإِزَارِ۔
(١٧١٠٣) حضرت عاصم بن عمرو بجلی فرماتے ہیں کہ کچھ اہل عراق حضرت عمر (رض) سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم کون ہو ؟ انھوں نے عرض کیا کہ ہم عراقی ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ کیا تم اجازت سے آئے ہو ؟ انھوں نے فرمایا جی ہاں۔ پھر ان لوگوں نے سوال کیا کہ حیض کی حالت میں عورت سے کچھ کیا جاسکتا ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے وہ سوال کیا ہے جو مجھ سے اس وقت کے بعد سے کسی نے نہیں کیا جب سے میں نے یہ بات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معلوم کی ہے۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ حیض کی حالت میں آدمی عورت کے ازار کے اوپر سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔