(۱۷۱۶۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ : ہُوَ الزِّنَا ، وَقَالَ مُجَاہِدٌ : ہُوَ الزِّنَا ، وَقَالَ عِکْرِمَۃُ : ہُوَ الزِّنَا {إلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : {إلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} یَنْزِعُ الرَّجُلُ وَلِیدَتہ امْرَأَۃَ عَبْدِہِ وَقَالَ غَیْرُہُ : سَبَایَا الْعَدُوِّ یُوطَأْنَ إذَا مَا سُبِیَتْ أَزْوَاجُہُنَّ۔
(١٧١٦٩) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ زنا ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وہ زنا ہے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ وہ زنا ہے سوائے ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ سوائے ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ دشمن کی قیدی عورتوں سے اس صورت میں جماع کیا جاسکتا ہے جب ان کے خاوند بھی قید کئے گئے ہوں۔