(۱۷۱۹۰) حَدَّثَنَا عُبَیدُ اللہِ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنِ السدِّی ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ فِی قَوْلِہِ : {وَلاَ أَنْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ} قَالَ : ذَلِکَ لَوْ طَلَّقَہُنَّ لَمْ یَحِلَّ لَہُ أَنْ یَسْتَبْدِلَ ، قَالَ : وَقَدْ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْکِحُ مَا شَائَ بَعْدَ مَا نَزَلَتْ ، وَنَزَلَتْ وَتَحْتَہُ تِسْعُ نِسْوَۃٍ وَتَزَوَّجَ أُمَّ حَبِیبَۃَ وَجُوَیْرِیَۃَ۔
(١٧١٩٠) حضرت عبداللہ بن شداد قرآن مجید کی آیت { وَلاَ أَنْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ اگر نبی اپنی ازواج کو طلاق دے دیں تو ان عورتوں کو تبدیل کرنا حلال نہیں۔ جہاں تک نکاح کی بات ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی نکاح کیا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ کے نکاح میں نو عورتیں تھیں پھر آپ نے حضرت ام حبیبہ اور حضرت جویریہ (رض) سے نکاح فرمایا۔