(۱۷۲۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خالد عن أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : إذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْبِکْرَ عَلَی امْرَأَتِہِ أَقَامَ عِنْدَہَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّیِّبَ أَقَامَ عِنْدَہَا ثَلاَثًا ، قَالَ خَالِدٌ : قَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ : أَمَا لَوْ قُلْتُ : إنَّہُ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَکِنَّہَا سُنَّۃٌ قَالَ خَالِدٌ : فَحَدَّثْتُ بِہِ ابْنَ سِیرِینَ ، فَقَالَ : زِدْتُمْ ہَذِہِ أَرْبَعًا وَہَذِہِ لَیْلَۃً۔
(بخاری ۵۲۱۳۔ مسلم ۱۰۸۴)
(١٧٢٢١) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ اگر آدمی بیوی کی موجودگی میں کسی باکرہ سے شادی کرے تو اس کے پاس سات دن ٹھہرے گا اور اگر ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے گا۔ ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو یہ سمجھ لو کہ یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہے یا یہ سنت ہے۔ حضرت خالد فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابن سیرین کو سنائی تو انھوں نے فرمایا کہ باکرہ کے لیے تم نے چار دن اور ثیبہ کے لیے ایک دن زیادہ کردیا۔