(۱۷۳۲۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِیٍّ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ مَا لَکَ تَنوَّقُ فِی قُرَیْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ : عِنْدَکُمْ شَیْئٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، ابنْۃ حَمْزَۃَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی ، إنَّہَا بِنْتُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ۔ (مسلم ۱۱۔ احمد ۱/۸۲)
(١٧٣٢٠) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ آپ قریش میں شادی کی رغبت رکھتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی ایسی خاتون ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں، حضرت حمزہ (رض) کی بیٹی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں، کیونکہ وہ میری رضاعی بہن ہیں۔