(۱۷۳۲۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ أن أُمَّ حَبِیبَۃَ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ لَکَ فِی أُخْتِی ابْنَۃِ أَبِی سُفْیَانَ ؟ قَالَ : إنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِی قَالَتْ : فَإِنَّہُ قَدْ بَلَغَنِی أَنَّک تَخْطُبُ دُرَّۃَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : بِنْتُ أَبِی سَلَمَۃَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : وَاللَّہِ إِنْ لَمْ تَکُنْ رَبِیبَتِی فِی حِجْرِی مَا حَلَّتْ لِی ، إنَّہَا ابْنَۃُ أَخِی مِنَ الرَّضَاعَۃِ ، أَرْضَعَتْنِی وَأَبَاہَا ثُوَیْبَۃُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَیَّ بَنَاتِکُنَّ وَلاَ أَخَوَاتِکُنَّ۔
(بخاری ۵۱۰۶۔ مسلم ۱۰۷۲)
(١٧٣٢٢) حضرت ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا آپ میری بہن یعنی ابو سفیان کی بیٹی سے نکاح کرنا پسند کریں گے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں۔ حضرت ام حبیبہ نے عرض کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے درہ بنت ابی سلمہ کے لیے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استفسار فرمایا کہ ابو سلمہ کی بیٹی ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اگر وہ میری پرورش میں نہ بھی ہوتی تو میرے لیے حلال نہیں تھی، کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ مجھے اور اس کے والد کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ مجھے اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے نکاح کی دعوت نہ دو ۔