(۱۷۳۴) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ زِنْجِیًّا وَقَعَ فِی زَمْزَمَ فَمَاتَ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ إلَیْہِ رَجُلاً فَأَخْرَجَہُ ، ثُمَّ قَالَ : انْزِفُوا مَا فِیہَا مِنْ مَائٍ ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِی فِی الْبِئْرِ : ضَعْ دَلْوَک مِنْ قِبَلِ الْعَیْنِ الَّتِی تَلِی الْبَیْتَ ، أَوِ الرُّکْنَ فَإِنَّہَا مِنْ عُیُونِ الْجَنَّۃِ۔
(١٧٣٤) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک حبشی بئر زمزم میں گر کر مرگیا۔ حضرت ابن عباس نے اس میں ایک آدمی کو اتارا جس نے اس کو باہر نکالا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس کا سارا پانی نکالو۔ پھر آپ نے کنویں میں موجود شخص سے فرمایا کہ اس چشمے کی طرف سے پانی نکالو جو بیت اللہ یا رکن کی طرف ہے کیونکہ یہ جنت کا چشمہ ہے۔