(۱۷۳۷۳) حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی الْفُرَاتِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْقَرْیَۃِ بِغَیْرِ عِلْمِہِ وَلاَ عِلْمِہَا فَأَخْرَجَ شَیْئًا مِنْ مَالِہِ فَتَزَوَّجَہَا بہ لِیُحِلَّہَا لَہُ ، فَقَالَ : لاَ ، ثُمَّ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ مِثْلِ ذَلِکَ ، فَقَالَ : لاَ حَتَّی یَنْکِحَہَا مُرْتَغِِبًا لِنَفْسِہِ ، حَتَّی یَتَزَوَّجَہَا مُرْتَغِِبًا لِنَفْسِہِ ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِکَ لَمْ تَحِلَّ لَہُ حَتَّی یذُوقَ الْعُسَیْلَۃَ۔
(١٧٣٧٣) حضرت عمرو بن دینار (رض) سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے، پھر دیہات سے ایک آدمی آئے جو نہ مرد کو جانتا ہو اور نہ عورت کو، وہ اپنا کچھ مال نکالے اور عورت سے اس بنیاد پر شادی کرے کہ عورت کو مرد کے لیے حلال کرے تو یہ کرنا کیسا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ یہ درست نہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا یہ درست نہیں۔ اس سے اپنے نفس کی چاہت کے بغیر نکاح نہ کرے، اس سے اپنے نفس کی چاہت کے بغیر نکاح نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو عورت پہلے خاوند کے لیے اس وقت تک حلال نہیں جب تک آدمی عورت کا شہد نہ چکھ لے۔