(۱۷۳۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رضی اللہ عنہ وَزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ زَیْدٌ : قدْ حَلَّتْ وَقَالَ عَلِیٌّ : أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا قَالَ زَیْدٌ: أَرَأَیْتَ إِنْ کَانَتْ یَئیسًا قَالَ عَلِیٌّ : فَآخِرُ الأَجَلَیْنِ قَالَ عُمَرُ : لَوْ وَضَعَتْ ذَا بَطْنِہَا وَزَوْجُہَا عَلَی نَعْشِہِ لَمْ یَدْخُلْ حُفْرَتَہُ لَکَانَتْ قَدْ حَلَّتْ۔
(١٧٣٨١) حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اس بارے میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) سے مشورہ کیا تو حضرت زید (رض) نے فرمایا کہ بچے کو جنم دیتے ہی عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ حضرت زید نے فرمایا کہ اگر عورت ایسی عمر کو پہنچ چکی ہو جس میں حمل اور ولادت کا تصور نہیں ہوتا تو اس کی عدت کیا ہوگی ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ دونوں میں سے زیادہ طویل مدت عدت کی مدت ہوگی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر حاملہ کے خاوند کی نعش کو قبر میں نہ اتارا گیا ہو اور وہ بچے کو جنم دے دے تو اس عورت کی عدت مکمل ہوگئی۔