(۱۷۳۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ أن ابْنَ عُمَرَ زَوَّجَ ابْنًا لَہُ امْرَأَۃً مِنْ أَہْلِہِ ، فَتُوُفِّیَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، وَلَمْ یُسَمِّ لَہَا صَدَاقًا ، فَطَلَبُوا إلَی ابْنِ عُمَرَ الصَّدَاقَ ، فَقَالَ : لَیْسَ لَہَا صَدَاقٌ ، فَأَبَوْا أَنْ یَرْضَوْا بِذَلِکَ، فَجَعَلُوا بَیْنَہُمْ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَأَتَوْہُ فَقَالَ : لَیْسَ لَہَا صَدَاقٌ۔
(١٧٣٩٦) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے ایک بیٹے کی شادی کرائی۔ ان کا انتقال مہر کے مقرر کرنے سے پہلے اور دخول کرنے سے پہلے ہوگیا، لڑکی والوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے مہر کا مطالبہ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہے، انھوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا اور حضرت زید بن ثابت (رض) کو ثالث بنایا تو انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس عورت کو مہر نہیں ملے گا۔