(۱۷۴۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ : تَزَوَّجَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ بِنْتًا لِعُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ کَانَتْ أُمُّہَا أَسْمَائَ بِنْتَ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ فَتُوُفِّیَ وَلَمْ یَکُنْ فَرَضَ لَہَا صَدَاقًا فَطَلَبُوا مِنْہُ الصَّدَاقَ وَالْمِیرَاثَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلاَ صَدَاقَ لَہَا فَأَبَوْا ذَلِکَ عَلَی ابْنِ عُمَرَ فَجَعَلُوا بَیْنَہُمْ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَقَالَ زَیْدٌ : لَہَا الْمِیرَاثُ وَلاَ صَدَاقَ لَہَا۔
(١٧٤٠٣) حضرت نافع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے ایک بیٹے نے حضرت عبید اللہ بن عمر (رض) کی ایک بیٹی سے شادی کی۔ اس لڑکی کی والدہ کا نام اسماء بنت زید بن خطاب تھا۔ حضرت ابن عمر (رض) کے اس بیٹے کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی انتقال ہوگیا۔ لڑکی والوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے مہر اور میراث کا مطالبہ کیا۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گا۔ لوگوں نے حضرت ابن عمر (رض) کی اس بات کا انکار کیا تو انھوں نے حضرت زید بن ثابت (رض) کو ثالث بنایا تو حضرت زید نے فرمایا کہ اسے میراث ملے گی لیکن مہر نہیں ملے گی۔