(۱۷۴۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَۃٌ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زوجتہ ؟ قَالَ : لاَ تَمْنَعُہُ نَفْسَہَا وَلَوْ کَانَتْ عَلَی ظَہْرِ قَتَبٍ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی زَوْجَتِہِ ؟ قَالَ : لاَ تَصَدَّقُ بِشَیْئٍ مِنْ بَیْتِہِ إلاَّ بِإِذْنِہِ فَإِنْ فَعَلَتْ کَانَ لَہُ الأَجْرُ وَعَلَیْہَا الْوِزْرُ ، قَالَتْ : یَا نَبِی اللہ مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی امرأتہ قَالَ : لاَ تَخْرُجَ مِنْ بَیْتِہِ إِلا بِإِذْنِہِ فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْہَا مَلاَئِکَۃُ اللہِ وَمَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ وَمَلاَئِکَۃُ الْغَضَبِ حَتَّی تَتُوبَ ، أَوْ تراجع قَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللہِ : فَإِنْ کَانَ لَہَا ظَالِمًا ؟ قَالَ : وَإِنْ کَانَ لَہَا ظَالِمًا ، قَالَتْ : وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لاَ یَمْلِکُ عَلَیَّ أَمْرِی أَحَدٌ بَعْدَ ہَذَا أَبَدًا مَا بَقِیتُ۔
(١٧٤٠٩) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خاوند کا حق یہ ہے کہ بیوی اسے اپنے نفس سے منع نہ کرے خواہ وہ چکی پر بیٹھی ہو۔ اس عورت نے پھر سوال کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خاوند کے گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خاوند کو اجر اور بیوی کو گناہ ملے گا۔ اس عورت نے پھر عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ! بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس پر اللہ کے فرشتے، رحمت کے فرشتے اور غضب کے فرشتے اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ توبہ نہ کرلے یا واپس نہ آجائے۔ اس عورت نے سوال کیا کہ خواہ اس کا خاوند ظالم ہی ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں خواہ وہ ظالم ہی ہو۔ پھر اس عورت نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے آج کے بعد میں اپنے معاملے کا مالک کسی کو نہیں بناؤں گی یعنی شادی نہیں کروں گی۔