(۱۷۴۲۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : ثَلاَثَۃٌ یَدْعُونَ فَلاَ یُسْتَجَابُ لَہُمْ : رَجُلٌ آتی سَفِیہًا مَالَہُ وَقَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : {وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَہَائَ أَمْوَالَکُم} وَرَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَہُ امْرَأَۃٌ سَیِّئَۃُ الْخُلُقِ فَلَمْ یُطَلِّقْہَا ، أَوْ لَمْ یُفَارِقْہَا وَرَجُلٌ کَانَ لَہُ عَلَی رَجُلٍ حَقٌّ فَلَمْ یُشْہِدْ عَلَیْہِ۔
(١٧٤٢٩) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ تین لوگ ایسے ہیں جو بلاتے ہیں لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی بیوقوف کے پاس مال رکھوایا ہو، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (ترجمہ) تم اپنا مال بیوقوفوں کے پاس مت رکھواؤ۔ دوسرا وہ آدمی جس کے نکاح میں کوئی بداخلاق عورت ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے اور نہ اس سے جدائی اختیار کرے۔ تیسرا وہ آدمی جس کا حق کسی آدمی پر لازم ہو لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو۔