(۱۷۴۳۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُولُ : النِّسَائُ ثَلاَثَۃٌ : امْرَأَۃٌ ہَیِّنَۃٌ لَیِّنَۃٌ عَفِیفَۃٌ مُسْلِمَۃٌ وَدُودٌ وَلُودٌ تُعِینُ أَہْلَہَا عَلَی الدَّہْرِ ، وَلاَ تُعِینُ الدَّہْرَ عَلَی أَہْلِہَا ، وَقَلَّ مَا تَجِدُہَا ، ثَانِیَۃٌ : امْرَأَۃٌ عَفِیفَۃٌ مُسْلِمَۃٌ إنَّمَا ہِیَ وِعَائٌ لِلْوَلَدِ لَیْسَ عِنْدَہَا غَیْرُ ذَلِکَ ، ثَالِثَۃٌ : غُلٌّ قَمِلٌ یَجْعَلُہَا اللَّہُ فِی عُنُقِ مَنْ یَشَائُ وَلاَ یَنْزِعُہَا غَیْرُہُ ، الرِّجَالُ ثَلاَثَۃٌ : رَجُلٌ عَفِیفٌ مُسْلِمٌ عَاقِلٌ یَأْتَمِرُ فِی الأُمُورِ إذَا أَقْبَلَتْ وَتَشَبَّہت ، فَإِذَا وَقَعَتْ خَرَجَ مِنْہَا بِرَأْیِہِ وَرَجُلٌ عَفِیفٌ مُسْلِمٌ لَیْسَ لَہُ رَأْیٌ فَإِذَا وَقَعَ الأَمْرُ أَتَی ذَا الرَّأْیِ وَالْمَشْورَۃِ فَشَاوَرَہُ وَاسْتَأْمَرَہُ ثُمَّ نَزَلَ عِنْدَ أَمْرِہِ، وَرَجُلٌ حَائِرٌ بَائِرٌ لاَ یَأْتَمِرُ رُشْدًا وَلاَ یُطِیعُ مُرْشِدًا۔
(١٧٤٣٢) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ عورتیں تین قسم کی ہیں : ایک وہ اچھے مزاج والی، نرم طبیعت والی، پاکدامن، مسلمان، محبت کرنے والی، اولاد کو جنم دینے والی بیوی جو اپنے خاوند کی ہر حال میں معاونت کرے اور مصیبتوں پر شکوہ نہ کرے۔ لیکن ایسی عورت بہت کم ملتی ہے۔ دوسری وہ پاکدامن اور مسلمان عورت، جو بچوں کی تربیت کرے اور اسے بچوں کے علاوہ کوئی کام نہ ہو۔ تیسری وہ عورت جو بدمزاج اور بدفطرت ہو۔ اللہ تعالیٰ ایسی عورت جس کے گلے میں چاہے ڈال دیتا ہے اور اسے اللہ کے سوا کوئی ٹال نہیں سکتا۔ مردوں کی بھی تین قسمیں ہیں : ایک وہ پاکدامن مسلمان سمجھد ار مردجوہر طرح کے معاملات کی فہم رکھتا ہو، اگر کسی مشکل میں مبتلاہو تو اپنی دانائی کی وجہ سے اس سے نکل جائے۔ دوسرا وہ پاکدامن مسلمان مرد جو خود تو صاحب الرائے نہ ہو لیکن جب کوئی معاملہ پیش آئے تو سمجھدار اور صاحب الرائے سے مشورہ کرے اور اس کے مشورے پر عمل کرے اور تیسرا وہ نادان اور بیوقوف شخص جو نہ خود صاحب الرائے ہو نہ کسی سمجھدار سے مشورہ کرے اور نہ کسی خیر خواہ کی اطاعت کرے۔