(۱۷۴۳۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی أَبِی أُسَیْدٍ قَالَ : تَزَوَّجْتُ وَأَنَا مَمْلُوکٌ فَدَعَوْتُ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِمُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو ذَرٍّ وَحُذَیْفَۃُ قَالَ : وَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ قَالَ : فَذَہَبَ أَبُو ذَرٍّ لِیَتَقَدَّمَ فَقَالُوا : إلَیْکَ ، قَالَ : أَوَ کَذَلِکَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَتَقَدَّمْتُ إلَیْہِمْ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوکٌ وَعَلَّمُونِی فَقَالُوا : إذَا أُدْخِلَ عَلَیْکَ أَہْلُکَ فَصَلِّ عَلَیْکَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلِ اللَّہَ تَعَالَی مِنْ خَیْرِ مَا دَخَلَ عَلَیْکَ وَتَعَوَّذْ بِہِ مِنْ شَرِّہِ ثُمَّ شَأْنَکَ وَشَأْنَ أَہْلِکَ۔
(١٧٤٣٨) حضرت ابو اسید کے مولیٰ حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ جب میں نے شادی کی تو میں غلام تھا۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کی ایک جماعت کی دعوت کی۔ ان میں حضرت ابن مسعود، حضرت ابو ذر اور حضرت حذیفہ (رض) بھی تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو حضرت ابوذر (رض) آگے ہونے لگے تو ساتھیوں نے ان سے فرمایا آپ آگے بڑھیں اور مجھے نماز پڑھانے کو کہا۔ میں غلام تھا پھر بھی میں نے نماز پڑھائی۔ پھر انھوں نے مجھ سے فرمایا جب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ تو دو رکعت نماز پڑھو، پھر اللہ تعالیٰ سے خیر مانگو اور شر سے پناہ چاہو۔ پھر اپنی بیوی کے ساتھ مصروف ہوجاؤ۔