(۱۷۴۴۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ : لَمَّا تَزَوَّجَ أَبِی : سِیرِینُ دَعَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَبْعَۃَ أَیَّامٍ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الأَنْصَارِ دَعَاہُمْ وَدَعَا أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ وَزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قالَ ہِشَامٌ : وَأَظُنُّہُ قَالَ وَمُعَاذًا قَالَ : فَکَانَ أُبَیٌّ صَائِمًا فَلَمَّا طَعِمُوا دَعَا أُبَیّ بْنُ کَعْبٍ وَأَمَّنَ الْقَوْمُ۔
(١٧٤٤٨) حضرت حفصہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب میرے والد سیرین نے شادی کی تو سات دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی دعوت کی۔ جب انصار کی دعوت کا دن ہوا تو حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور حضرت معاذ (رض) کو بلایا۔ حضرت ابی (رض) کا اس دن روزہ تھا۔ جب سب نے کھانا کھالیا تو حضرت ابی (رض) نے دعا کی اور باقی لوگوں نے اس دعا پر آمین کہا۔